رہتا ہے اُسی شخص کو حالات پہ قابو
رکھتا ہے جو ہر حال میں جذبات پہ قابو
روکے نہیں جا سکتے گزرتے ہوئے لمحے
دن پر کوئی بَس ہے نہ کوئی رات پہ قابو
آ جایٔیں برسنے پہ تو تھمتیں نہیں آنکھیں
کیا پائے کوئی اشکوں کی برسات پہ قابو؟
پابندیاں کیوں ساری ہمارے ہی لیے ہیں؟
اُن کو بھی تو ہو اپنے کرشمات پہ قابو
ناچاری کی تصویر بنی بیٹھی ہے دنیا
اِس بات پہ قابو ہے نہ اُس بات پہ قابو
کتنے ہیں؟ جنھوں نے کبھی دل کی نہیں مانی
کس کس کو ہے اِس رندِ خرابات پہ قابو؟
حالات سے سمجھوتہ نعیم اچھی روش ہے
کس کو ہے بھلا گردشِ حالات پہ قابو
سید ضیاءالدین نعیم