نور چہروں پہ، ضمیروں میں اندھیرا ہے یہاں
کوئی کردار نہ تیرا ہے نہ میرا ہے یہاں
آئے ہو جلتی ہوئی دھوپ میں چل کر یارو
بیٹھ جاؤ کہ ذرا سایا گھنیرا ہے یہاں
بانٹ لیں مجھ کو نہ بے ظرف طلب گار مرے
وہ سمندر ہوں جسے قطروں نے گھیرا ہے یہاں
بار بار اپنی حسیں پلکوں کو جنبش مت دو
میرے ٹوٹے ہوئے خوابوں کا بسیرا ہے یہاں
روشنی میرے لیے ہے دمِ خنجر کی طرح
میں چراغوں کے تلے ہوں کہ اندھیرا ہے یہاں
بوجھ شانوں سے پھسل جائے گا آہستہ چلو
ایک اک لمحے پہ صدیوں کا بسیرا ہے یہاں
فضا ابن فیضی