پھر ایک دن مجھے پر کاٹنے پڑے اپنے
ترے بغیر میں کب تک اڑان میں رہتی
مجھے تو روگ محبت کا لے کے ڈوب گیا
وگرنہ آج بھی دلکش، جوان، میں رہتی
زمانہ کیسے بھلا درمیان آ جاتا
محبت اپنے اگر درمیان میں رہتی
خود اپنا خوف مجھے نوچنے چلا آتا
ٴکچھ اور پل جو میں چوکس مچان میں رہتی
ترے لیے مرے کردار میں کشش ہی نہ تھی
وگرنہ میں بھی تری داستان میں رہتی
تو پتھروں سے بنے لوگ موم ہو جاتے
دو چار روز اگر میں چٹان میں رہتی
وہ دشمنی مرے بل پر نبھانا چاہتا تھا
کنیز کیسے میں اس کی کمان میں رہتی
کنیز فاطمہ مقدس