ہر بے زباں کو شعلہ نوا کہہ لیا کرو
یارو سکوت ہی کو صدا کہہ لیا کرو
خود کو فریب دو کہ نہ ہو تلخ زندگی
ہر سنگدل کو جانِ وفا کہہ لیا کرو
انسان کا اگر قد و قامت نہ بڑھ سکے
تم اسکو نقصِ آب و ہوا کہہ لیا کرو
اپنے لئے اب ایک ہی راہِ نجات ہے
ہر ظلم کو رضاے خدا کہہ لیا کرو
دکھلاے جاسکیں جو نہ کانٹے زبان کے
تم داسانِ کرب و بلا کہہ لیا کرو
لے دے کے اب یہی ہے نشانِ ضیا قتیل
جب دل جلے تو اس کو دیا کہہ لیا کرو
قتیل شفائی