مجھ کو اک بیماری ہے بس چہرے یاد نہیں رہتے
تم کیا ہو مجھ کو تو اچھے اچھے یاد نہیں رہتے
آنکھوں کے بھیتر تو میں ہر رستے سے جا سکتا ہوں
لیکن واپس لوٹ آنے کے رستے یاد نہیں رہتے
تیری خاطر سچے جھوٹے قصے شامل کرتا ہوں
سچ بتلائوں مجھ کو خواب تو پورے یاد نہیں رہتے
کس نے میرے نام سے آنے والے وقت کا ذکر کیا
مجھ کو تو پچھلے وقتوں کے قصے یاد نہیں رہتے
جس کو دل سے دیکھنا چاہوں اس کو “دل” سے دیکھتا ہوں
آنکھوں کو تو منظر دیکھے بھالے یاد نہیں رہتے
الیاس بابر اعوان