سو طرح سے ٹوٹے ہیں سو طرح گرہ باندھی
ہونٹوں پہ سخن ٹانکے سانسوں میں ہوا باندھی
کس راہ نکلنا ہے، کیا رخت اٹھانا ہے
پیروں میں سفر پہنا پلّو میں دعا باندھی
دہلیز کے باہر ہم آہٹ کوئی چھوڑ آئے
زنجیرِ مقفّل سے دستک کی صدا باندھی
اک اونگھ سی آئی تھی تہمت ہے کہ سوتے ہیں
ایک یاد کی کترن تھی وہ خواب میں لا باندھی
کچھ سائے اٹھا لائے اس پیڑ کے پہلو سے
آنکھیں مری زخمی تھیں سو اُن میں شفا باندھی
مجرم بھی ہیں، منصف بھی، عشاقِ جنوں پیشہ
محضر پہ خطا لکھّی گردن میں سزا باندھی
سلیم شاہد