قرار کھو کے، دلِ بے قرار باقی ہے
جو زخم کھائے ہیں اُن کا شمار باقی ہے
عبور کر چکی دشتِ جنوں بھی میں لیکن
ہنوز سامنے اِک ریگزار باقی ہے
سنا کے داستاں غم کی بھی لفظ لفظ مگر
میں کیا کروں، وہی دل کا غبار باقی ہے
دکھوں کی لہر اور سیلِ غم میں بہہ کر بھی
یہ سخت جان، دلِ خونبار باقی ہے
غموں کی آگ میں جل کر میں بن گئی کندن
جبھی تو چہرے پہ اب تک، نکھار باقی ہے
وہ میٹھے بول جو رَس گھولتے تھے کانوں میں
زمانے بعد بھی اُن کا خمار باقی ہے
خزاں رسیدہ ذہن تھک گیا ہے اب، لیکن
یہ دل ہے، جس میں اُمیدِ بہار باقی ہے
Re: قرار کھو کے، دلِ بے قرار باقی ہے
غموں کی آگ میں جل کر میں بن گئی کندن
جبھی تو چہرے پہ اب تک، نکھار باقی ہے
Suna hai bleach cream main kafi jalan hoti hai?
Re: قرار کھو کے، دلِ بے قرار باقی ہے
غموں کی آگ میں جل کر میں بن گئی کندن
جبھی تو چہرے پہ اب تک، نکھار باقی ہے
Suna hai bleach cream main kafi jalan hoti hai?
Use krnay walon ko pata hoga...........:)
Jiia, LP, Micro....sy pata kryn
Re: قرار کھو کے، دلِ بے قرار باقی ہے
Use krnay walon ko pata hoga...........:)
Jiia, LP, Micro....sy pata kryn
ye log make-up nahin kartin
tarash
5
Re: قرار کھو کے، دلِ بے قرار باقی ہے
خزاں رسیدہ ذہن تھک گیا ہے اب، لیکن
یہ دل ہے، جس میں اُمیدِ بہار باقی ہے
paiwasta reh shajar se umeed e bahar rakh