گر کوئی نہ تیرا ساتھ نبھائے تو چلے آنا
بچھڑ جائیں جو تجھ سے سائے تو چلے آنا
چوکھٹ ہے تیری نم کسی کے اشکوں سے
دیوار اناء کی کبھی گِر جائے تو چلے آنا
کم ظّرف سے تو اچھا ہے کم شّناس ہونا
آنکھوں کی زبان سمجھ نہ آئے تو چلے آنا
ہماری گور پہ ہرشب چراغ جلاتا ہےکوئی
اندھیروں سے جو دلِ گھبرائے تو چلے آنا
اجڑی شاموں کا دیوانے حساب کرتے ہیں
***سنگ کوئی تم پہ برسائے تو چلے آنا ***
گلاب بھیجیں گے ہر ستِم کے بدلے میں
یہ سودا گر دِل کو بھائے تو چلے آنا
ہم نے سنا محفّلوں میں خوب ہنستے ہو
کبھی تنہائی تم کو رلائے تو چلے آنا
*** محبّت راس نہیں تو نفرت کیا کریں’‘شاہ جی’'***
یہ بات کوئی تجھ کو سمجھائے تو چلے آنا