وفا کی اس نے چھیڑی ہے بات

وفا کی اس نے چھیڑی ہے بات ہمیں سوچنا ہو گا
ادھوری سی اس نےکی ہے بات ہمیں سوچنا ہو گا


ہم نے مانا کہ خاروّں کا اندازِ بیاں بھی اچھا ہو گا
گلوّں کو مگر ہوئی کیسے مات ہمیں سوچنا ہو گا


اک قطرہ لہو کا فقّط میسّر ہے چراغوں کے لئے
ہجر کی لمبی ہے مگر رات ہمیں سوچنا ہو گا


نوبت آپہنچی کہ لوگ مانگتے ہیں جینے کا سبّب
ایسے ہوئے ہیں جو حالات ہمیں سوچنا ہو گا


***لاپتہ دلِ دھڑکتا ہے آجکل کسی اور سینے میں ***
‘خدارا’ کیسے ہیں یہ محجزات ہمیں سوچنا ہو گا


تبادلہِ مقدّر بس ممکن نہیں ہے میرے نادان دوستّو
*** پہلے بہت ہیں تمھارے احسا نات ہمیں سوچنا ہو گا***


اجڑی محفلوں سے اب تک کچھ واسطہ نا رہا مگر
ایسے ہیں ہم کو کچھ خدّشاٰت ہمیں سوچنا ہو گا


*** اشک پلاتے رہے ہیں جِگر کو لہّو کے عوّض ہم ***
*** عجّب ہیں یہ کیسے الِزا مات ہمیں سوچنا ہو گا***


رسوائیوں کا حساب ضرورکریں زمانےسے’'شاہ جی؛؛
انکی ہیں مگر سفارشّات ہمیں سوچنا ہو گا

Re: وفا کی اس نے چھیڑی ہے بات

:hmmm: :hmmm: :hmmm:

soch main gum

Re: وفا کی اس نے چھیڑی ہے بات

ہم نے مانا کہ خاروّں کا اندازِ بیاں بھی اچھا ہو گا
***گلوّں کو مگر ہوئی کیسے مات ہمیں سوچنا ہو گا

KALLON ?***