ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں

ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں

سرور و کیف میں دیوانے تھوڑی ہوتے ہیں

تباہ سوچ سمجھ کر نہیں ہوا جاتا

جو دل لگاتے ہیں فرزانے تھوڑی ہوتے ہیں

کہاں زبان و بیاں کارگر محبّت میں

کہ یہ معاملے سمجھانے تھوڑی ہوتے ہیں

جو لوگ آتے ہیں ملنے تیرے حوالے سے

نئے تو ہوتے ہیں انجانے تھوڑی ہوتے ہیں

مزاج پوچھتے ہیں کس تپاک سے ہر بار

اگرچہ وہ ہمیں پہچانے تھوڑی ہوتے ہیں

نہ آئیں آپ تو محفل میں کون آتا ہے

جلے نہ شمع تو پروانے تھوڑی ہوتے ہیں

شعور، تم نے خدا جانے کیا کیا ہوگا

ذرا سی بات کے افسانے تھوڑی ہوتے ہیں

Re: ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں

akhri shehr bara mehni khez hai

Re: ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں

مزاج پوچھتے ہیں کس تپاک سے ہر بار

اگرچہ وہ ہمیں پہچانے تھوڑی ہوتے ہیں

:cb:

unse hi to zeada tapak se mila jata hy
jinko banda pehchan nahi pata :stuck_out_tongue:

Re: ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں

kyon k un ki asleat ka pata nahin hota na

Re: ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں

:k:

What is this post abt ? Cant read urdu

Re: ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں

:hmmm:

Re: ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں

press F1

Re: ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں

مزاج پوچھتے ہیں کس تپاک سے ہر بار

اگرچہ وہ ہمیں پہچانے تھوڑی ہوتے ہیں

Bhalai ka to zamana hi nahin