دل سے آہ نکلے اور خبر ہو جائے

دل سے آہ نکلے کسی کو خبرہو جائے
کاش اپنا کچھ ایسا ہی مقدر ہو جائے

سجدے میں سر جو جھکے دیدارِ یار کو
جو سر اٹھے تو وہ دعا اثر ہو جائے

تڑپ اٹھے ہمارا کوئی برا خواب سن کر
کوئی ہم کو چاہنے والا اسقدر ہوجائے

آنکھ سے ٹپکے جو اشک کسی کی یاد کا
*** وہ میرے یار کا خونِ جگر ہو جائے***

ہر دعا میں بس شامل رہی ملنے کی دعاّ
عشا، مغرب، عصر، دہر،کہ فجر ہو جائے

*** برآئے تمناّ تو کھو دیتی ہے وہ اپنا مزا***
*** ادھوری بات رہےپھر چاہےسحر ہوجائے***

کچھ اور درکار نہیں تجھ سے بس اتنا کہ
***میرا دل اک بار تیری رہگزر ہو جائے


کامل ہو نا تیرے بس کی بات نہیں’‘شاہ جی’’
کچھ کمی نہ رہے توانسان ‘پیغمبّر’ ہوجائے

Re: دل سے آہ نکلے اور خبر ہو جائے

کامل ہو نا تیرے بس کی بات نہیں’‘شاہ جی’’
***کچھ کمی نہ رہے توانسان ‘پیغمبّر’ ہوجائے

boht umda :lajawab:


Re: دل سے آہ نکلے اور خبر ہو جائے

​AADAB - E-ARZ hey

Behtareen :lajawab:

Re: دل سے آہ نکلے اور خبر ہو جائے

​zra nwazi hey aap ki