انتہاوّں پہ بھی اسکی ہم دل کو سمجھاتے رہے
دریا دلی سےہی اپنی ہم خود کو بہلاتے رہے
*** اسکا سّحر نہ ٹوٹے تبھی ہم سِحر سے خائف ہیں***
شب بھرجگنو بن کر وہ آنگن میں جگمگاتےرہے
***اپنے اپنے کام میں مہارت ہم دونوں رکھتے ہیں ***
وہ زخم دیتے رہےعمر بھراور ہم مسکراتے رہے
***
آخری شب کا آخری آنسو بچا رکھا بس اسکیلئے
باقی جو بچا تھا سب لوٹتے رہےاورہم لٹاتےرہے
جھلس چکا دل و جسم اسکے تکمیلِ خواباں میں
یوں ستمگر بن کر میرے وہ مجھ کو آزماتے رہے
جانےدلِ ناکام حسرتوں اور کیسے بیان ہوتا ہے
ہر بار ٹوٹنے پر ستاروں کو ہم سہلاتے رہے
وہ ہیں گنہگار گر ہم میں وفا باقی نہ رہی’‘شاہ جی’’
کیوں شناساں تنہا مجھے چھوڑ کے جاتے رہے