[RIGHT]
بارے مُدت کے یہ ہُنرآیا…………….
میری باتوں میں کُچھ اثر آیا……….
ختم ہونے کو یہ سفرآیا……………
“ہر طرف سے میں بے خبر آیا”.…
کون کہتا ہے رستہ مُشکل ہے……
دیکھئے میں بھی تو گُذر آیا………
اب تو باری ہے میرے دُشمن کی..
جو بھی کرنا تھا میں وہ کر آیا……
دم ہے اٹکا ہُوا ابھی جس میں……
اُس نے آنا تھا وہ نہ پر آیا………….
آنکھ تو اُس کے دُکھ میں روئی تھی.
دل بھی جانے مرا کیوں بھر آیا……
مُجھ کو رستہ دیا ہے دریا نے……..
میرے رستے میں جو بھنور آیا……
جس کے جانے کا تھا بُہت چرچا…
آج چُپکے سے میرے گھر آیا………
میرے ہونے سے تھا حجاب اُس کو.
میرے جاتے ہی بن سنور آیا……….
یہ تو رستہ ہے سیدھا جنت کا……
مولوی تُو ، ادھر ، کیدھر آیا….…..
جیسے قابض ہوا تھا سوچوں پر…
مری دل میں بھی یوں ہی در آیا…
مُجھ کو اس بات کا ہی دھڑکا تھا..
آج وہ بھی وہیں نظر آیا……………
جب کہیں بھی اُسے پناہ نہ ملی…
چاند چھت پہ مری ، اُتر آیا…………
مُجھ کو بھیجا گیا تھا دُنیا میں….…
کون کہتا ہے میں سُدھر آیا……….
دھُوپ لپٹی صبا کے قدموں میں…
آج اوڑھے جو وہ شجر آیا…………
[/RIGHT]