[RIGHT]اسلامک نیوکلیئر آسٹیٹ آف پاکستان کے ساتھ اللہ کا کوئی خاص ہی معاملہ ہے جو ملک سوئی نہیںبنا سکتا اس ملک نے دفاعی آلات و ہتھیاروں کی تیاری میں دنیا بھر کو حیران کر دیا ہے ۔۔۔۔۔
میں صرف دو تین مثالیں دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایٹم بم کی تیاری کے لیے جس مشین میں یورینیم کو افزودہ کیا جاتا ہے اسکو سنٹری فیوج مشین کہتے ہیں یہ نہایت تیزی سے گھومتی ہے اور ایک سکینڈ میں20،000 چکر لگاتی ہے بعض تنیکی مجبوریوں کی وجہ سے یہ صرف ایلومینیم بیسڈ ہی بن سکتی ہے اور اپنی بے پناہ رفتار کی وجہ سے چند گھنٹوں میں ناکارہ ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے سٹیل بیسڈ سنٹری فیوج مشین بنائی ہے جو کئی ہفتوں تک کارآمد رہتی ہے اس معاملے میں پاکستان نے امریکہ سمیت دنیا کے سارے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔۔
اپنی اس سنٹری فیوج مشین کی مدد سے پاکستان یورینیم کو 97 فیصد تک افزودہ کر سکتا ہے جس کے بعد آپ اس کو بے خطر ہو کر ہاتھ میں لے سکتے ہیں اسکی تابکاری ختم ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔ جبکہ انڈیا یورینیم کو محض 50 سے 60 فیصد تک افزودہ کر سکتا ہے جسکے خطرناک تابکاری اثرات سے متاثر انڈین ایٹمی پلانٹوں میں کام کرنے والے بہت سے مریض دیکھے جا سکتے ہیں لیکن زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ کم افزودہ یورینیم مختلف عوامل کی بنا پر پھٹ سکتی ہے مثلاً اگر کسی بھی انڈین نیوکلیر پلانٹ پر روائتی ہتھیاروں سےحملہ ہوا تو وہ کسی ایٹمی دھماکے کی طرح پھٹے گا لیکن پاکستان کی افزودہ شدہ یورینیم اس خامی سے پاک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکہ نے کچھ عرصہ پہلے یورینیم دھات کی ایک بھرت بنائی جو دنیا کی سخت ترین دھات بن گئی جس سے امریکہ نے ٹینک بنانے شروع کر دئیے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
عراق پر حملے کے دوران انہوں نے اپنے انہی ٹینکوں میں سے کچھ کو بغداد میں داخل کر دیا جن پرصدام کی وفادار فوج نے اپنے سارے ہتھیار آزما لیے لیکن ان ٹینکوں میں سے کسی ایک کو بھی کوئی معمولی نقصان نہیں پہنچا سکے صرف اس چیز نےانکے حوصلے کو جس طرح توڑا ہوگا اسکا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔
پاکستان امریکہ کے بعد دوسرا ملک ہے جس نے وہ یورینیم کا بھرت بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے گو اسلامک نیوکلیئرآسٹیٹ آف پاکستان فل حال ان سے ٹینک بنانے کے پوزیشن میں نہیں ہے لیکن ابتدائی طور پر اسلامک نیوکلیئر آسٹیٹ آف پاکستان نے اس سے ایسے گولے بنا لیے ہیں جو ان"ناقابل شکست" امریکی ٹینکوں کو تباہکر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایٹم بم بنانے کے لیے ایک زنجیری عمل کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لیے یورینیم کی ایک خاص مقدار چاہئے ہوتی ہے اس مقدار سے کم یورینیم کی صورت میں وہ زنجیری عمل شروع نہیں کیا جا سکتا اس کم سے کم مقدار کو کریٹیکل لمٹ کہتے ہیں اسلئے ایٹم بم ہمیشہ بڑے سائز کے ہوتے ہیں اور انکو صرف جہاز یا میزائل کے ذریعے داغا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تک کریٹیکل لمٹ سے کم مقدار سے ایٹم بم بنانے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ عرصہ پہلے جب اسامہ کو بھی پاک فوج کی ہی گود میں دریافت کیا گیاتب امریکہ نے پاکستان کے خلاف نہایت جارحانہ رویہ اختیار کر لیا تھا جس پر سابقہ صدر پرویز مشرف نے امریکہ میں بیٹھ کر کہا تھا کہ پاکستان نےکریٹیکل لمٹ سے کم یورینیم سے ایٹم بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے جس کو ایک بریف کیس میں لے جایا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
یہی دعوے پہلے روس نے بھی کیے تھے لیکن پاکستان کے معاملے میں کچھ اور گواہیاں بھی سامنے ائیں جو اگر سچ ہوئیں تو پاکستان دنیا کی ان ساری بڑی طاقتوں کے لیے ایک بھیانک خواب بن جائے گا ۔۔۔۔ کیونکہ اس صورت میں آپ جنگ مول لیے بغیر اور ذمہ داری لیے بغیر کسی بھی ملک پر ایٹمی حملہ کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
بلاشبہ اس خبر نے امریکہ کے ہوش اڑا دئیے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے بہت سے ماہرین نے اسکو پرویز مشرف کی امریکہ کو ڈرانے کی ایک چال قرار دیا ۔۔۔۔۔۔
سچائی اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن یہ ضرور ہوا کہ امریکی غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔
اسامہ ہی کے واقعے میں اطلاعات کے مطابق امریکہ نے سٹیلتھ ٹیکنالوجی والے ہیلی کاپٹر استعمال کیے تھے جن کو ریڈار پر نہیں دیکھا جا سکتا ۔۔۔۔۔۔ واقعے کے فوراً بعد امریکی کی کچھ دھمکیوں کے جواب میں چوتھے دن پاکستان نے بابر میزائل کا کامیاب تجربہ کیا جو سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل ہے اور ریڈار پر نظر نہیں آتا اس نے امریکہ کے ساتھ ساتھ انڈیا کو بھی حیران کر دیا تھا پاکستان نے سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے ایک زیادہ خطرناک چیز تیار کر لی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ عرصہ پہلے انڈیا نے کئی ملین ڈالر خرچ کر کے اسرائیل سے ایک ایسا ریڈار سسٹم خریدا تھا جو زمین پر اسلحے کے ڈپو کی نشاندہی کرسکتا ہے جواب میں پاکستان ماہرین نے کچھ ہی عرصے میں نہایت کم خرچے سے محض ایک نیٹ تیار کیا جو کئی ہزار سینٹی گریڈ درجہ حرارت کو روکے رکھتا ہے اور جہاز سے نظر نہیں آتا مختلف طرح کی لیزر شعاووں کو بے کار کر دیتا ہے صرف اس نیٹ سے اپنا اسلحہ ڈھانپ لیں تو انڈیا اور اسرائیل کا جدید ترین اسلحے کی نشاندہی کرنے والا وہ سسٹم بے کار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلاشبہ پاکستان ایک غیر معمولی ملک ہے خدارا پاکستانی بنیے اور اللہ پر بھروسہ رکھیے۔۔۔۔۔۔۔۔
[/RIGHT]
Re: اسلامک نیوکلیئر آسٹیٹ آف پاکستان
[RIGHT]چندی پور میں بھارت کی سب سے بڑی میزائل ٹیسٹنگ رینج میں آگ لگنے سے گو کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا مگر رینج مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ بھارت میں اسلحہ ساز اور کیمیکل فیکٹریوں میں آتشزدگی اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی کوئی نئی بات نہیں۔ یہ تو صرف ایک میزائل ٹیسٹنگ رینج کی بات ہے بھارت میں تو ایٹمی ریکٹروں میں بھی بڑے ہولناک حادثے ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے عوام کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوئی مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ توانائی کی قلت کا شکار بھارت میں ایٹمی توانائی میں توسیع کے حوالے سے کافی ابہام پایا جاتا ہے کیونکہ ایٹمی انرجی ریگولیٹر ی بورڈ کو ایٹمی پاور پلانٹس کے بارے قواعد بنانے ، سیفٹی مانیٹر کرنے اور مطلوبہ سٹینڈرڈز کو نافذ کرنے قانوناًاختیاراتہی نہیں۔ گویا وہ بااختیار ادارہ نہیں توایٹمی پلانٹس بغیر کسی اتھارٹی کے چلائے جا رہے ہیں۔ پلانٹس سے تابکاری روکنے کیلئے بورڈ کی بجائے آپریٹرز پر انحصارکیا جاتا ہے ۔ بورڈ پلانٹس میں کام کرنے والے عملہ کی نگرانی بھی نہیں کر سکتا۔ ان کو تربیت نہیں دے سکتا۔ ایٹمی فضلہ کو بحفاظت ٹھکانے لگانے کا کوئی انتظام نہیں۔ بھارتی ایٹمی ہتھیار اور ایٹمی ری ایکٹر بھی ناقص ہیں۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
بھارت کے تمام ایٹمی بجلی گھروں کے بارے میں آئی اے ای اے نے رپورٹ جاری کر دی کہ ”یہ سب غیر محفوظ اور انسانی و قدرتی حیات کیلئے انتہائی خطرناک ہیں۔بھارت میں ایٹمی تابکاری سے متاثرہ آبادی کا تناسب روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت کا ایٹمی پروگرام بذات خود بھی عدم تحفظ کا شکار رہا ہے۔ بھارت کی ایٹمی تنصیبات سے اب تک متعدد بار جوہری مواد چرایا جا چکا ہے ۔ بھارت میں انڈر ورلڈ اتنا مضبوط ہے کہ سیکیورٹی ادارے بھی اس کے سامنے بے بس ہیں ۔ جب وہ چاہتے ہیں اور جو چاہتے ہیں چوری کر لیتے ہیں یا سائنسدانوں کو اغوا یا قتل کر دیتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ قبل بھارتی ایٹمی سائنسدانوں کو راز فروخت کرنے کے جرم میں قتل کیا گیا یا کسی اور وجہ سے قتل ہوئے۔ دونوں صورتوں میں بھارتی ایٹمی پروگرام کی حفاظت سوالیہ نشان ہے۔بھارت میں اوپر تلے ایٹمی سائنسدان قتل ہو رہے ہیں اس پر بھارتی میڈیا واویلا کرتا ہے نہ سیاست دان شور مچاتے ہیں۔ حکومتی حلقوں میں تشویش ہے نہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آتے ہیں۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
مقتولین کے لواحقین کو احتجاج تو کیا لب کشائی کی بھی اجازت نہیں۔بھارتی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق بھارت کا ایٹمی انرجی ریگولیٹر کمزور اور آزادی سے محروم ہے جس کی وجہ سے بھارتی عوام کیلئے سنگین خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ ایٹمی پلانٹس سے تابکاری مواد کا اخراج مانیٹر کرنے کا کوئی قاعدہ قانون نہیں۔ بھارت آئی اے ای اے میں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے بد ترین ریکارڈ کاحامل ہے۔وہاں20 سے زائد واقعات ایٹمی مراکز میں حادثات سے متعلق ہیں۔ ان حادثات میں تاب کاری پھیلنا اور جوہری پلانٹ میں آتش زدگی کے واقعات شامل ہیں۔ حالیہ دنوں میں کلپاکم ایٹمی پلانٹ،ممبئی کے نواح میں واقع بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر (بی اے آر سی) اور کائیگا ایٹمی مرکز میں حادثے ہوئے۔ بھارت کے ایک ایٹمی پلانٹ نارورا میں حادثہ ہوا تو56لوگوں کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیاتھا۔ بھارت کے22میں سے12ری ایکٹروں میں حادثات پیش آئے۔ چوری کے48واقعات ہوئے جن میں سے 4واقعات ایسے تھے کہ قابل انشقاق یورینیم چوری ہوگیا۔بھارت میں18ماہ تک7سے8کلو گرام یورینیم ایک سائنس دان کی تحویل میں رہا اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہو سکی۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
بم بنانے کیلئے10سے12کلو گرام یورینیم درکار ہوتا ہے اور8کلو گرام یورینیم ایک سائنس دان کے پاس ڈیڑھ سال تک رہا۔گویا وہاں انوینٹری کنٹرول کا نظام ہی نہیں کہ مواد کی گمشدگی کا پتا چلتا۔ دو واقعات میں گمشدہ مواد تامل ناڈو سے برآمد کیا گیا جو بھارت کا شورش زدہ صوبہ ہے۔ بھارت میں ایٹمی بجلی گھروں کے گرد قانونی ضابطوں کے مطابق کم از کم پانچ کلومیٹر تک انسانی آبادی اور کھیتی باڑی نہیں ہونی چاہئیے جبکہ بھارت میں ان عالمی قوانین کی کبھی پرواہ نہیں کی گئی۔ بھارت میں بعض مقامات پر ایٹمی بجلی گھروں کے قریب سینکڑوں گاؤں آباد ہیں۔ راجستھان کے ایٹمی پاور پلانٹ میں چند ماہ قبل ہونے والے حادثے میں 40 کارکن تابکاری سے بری طرح متاثرہوئے تھے۔یہ پہلا واقعہ نہیں کہ بھارتی ایٹمی پلانٹ سے تابکاری اثرات نے عام لوگوں کومتاثر کیا۔ بلکہ یہ سلسلہ تو 1986 سے چل رہا ہے۔ جب 1986ء میں مدراس اٹامک پاور سٹیشن کے ایٹمی ری ایکٹر میں دراڑیں پڑ گئیں ۔ مئی 1991ء میں ری ایکٹر کے اندر زوردار دھماکہ ہوا۔ ٹنوں کے حساب سے پانی پلانٹ میں ہر طرف پھیل گیا۔ چار سال تک یہ پلانٹ مکمل طور پر تباہ حال کھنڈر کا نمونہ پیش کرتا رہا۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ*ٓٓٓٓٓٓ
تاہم پلانٹ کے نواح میں آج بھی ہر گھر میں معذور بچوں کی پیدائش کا سلسلہ جاری ہے۔گجرات میں واقع کاکا پور ایٹمی پاور پلانٹ سے تابکاری کے اخراج کی ابتداء 1994ء میں اس وقت ہوئی جب پلانٹ کا کنکریٹ سے تعمیر کردہ گنبد اپنے ہی وزن کی تاب نہ لاتے ہوئے زمین بوس ہو گیا۔ اس پلانٹ کے متاثرین اردگرد بسنے والے غریب دیہاتی احتجاج کرتے کرتے تھک گئے ہیں۔ اپنی غربت کے مارے وہ علاقہ چھوڑ کر بھی نہیں جا سکتے اور تابکاری سے آلودہ ماحول میں زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔
[/RIGHT]