***بیسن کی سُوندھی روٹی پر کھَٹی چَٹنی جیسی ماں
یاد آتا ہے چُوکھا بَاسن چِمٹا جیسی پھُنکنی ماں
******بانس کی کَھَّری کھَاٹ کے اوپر ہر آہٹ پر کان دھرے
آدھی سُوئی آدھی جاگی تھکی دُوپہَری جیسی ماں
******چِڑیوں کے چَہکار میں گُونجے رَادھا موہَن عَلی عَلی
مُرغے کی آواز سے کھُلتی گھر کی کُنڈی جیسی ماں
******بیوی بیٹی بہن پڑوسن تھوڑی تھُوڑی سی سب میں
دن بھر اک رسّی کے اُوپر چلتی نتَنی جیسی ماں
******بَانٹ کے اپنا چِِہرہ مَاتھا آنکھیں جانے کہاں گئى
پھٹے پُرانے ایک الَبم میں چَنچَل لَڑکی جیسی ماں
Re: ماں
دشت میں پیاس بُجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
*
*ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
*
*گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
*
*کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اُٹھ کر چُپ چاپ
ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں
*
*اُن کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے
جو ہمیں زہر پلاتے ہوئے مر جاتے ہیں
*
*یہ محبّت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
*
*ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابش
جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں
---