بے رنگ دن

***بے رنگ دن
بے موج شامِ ذات ہے
میری طلب کے سب نشاں
دل بن کے میرے گرد بکھرے ہیں مگر
دھڑکن سے ہر اک سانس تک
آزار بڑھتا جا رہا ہے
(حبس گھٹتا ہی نہیں)
سب حادثے
جو دل کی تہہ میں ہوتے ہیں
ان کو بھلائیں کس طرح؟
میری خموشی
دھڑکنوں میں
گونجتی رہتی ہے لیکن
آرزو کے نرد بانوں پر قدم
چلتے ہوئے رکتے نہیں


Re: بے رنگ دن

nice

Re: بے رنگ دن

***اف وہ پروانے ۔ ۔ ۔ کہ سمٹے ہی چلے آتے ہیں
ہائے وہ شمع ۔ ۔ ۔ کہ خاموش ہوئی جاتی ہے

عشق کی قسمتِ مرحوم ۔ ۔ ۔ الٰہی! توبہ
یادِ جاناں بھی فراموش ہوئی جاتی ہے ۔
---***

Re: بے رنگ دن

yani:

2 ki bajae aaj banai hai chae ek cup
afsos aaj tu bhi faramosh hogaya