دل میں طوفان بپا ہونے تک
وہ رہا ساتھ جدا ہونے تک
ٹانک جاؤ کوئی جھوٹا وعدہ
میرے آنچل پہ ہوا ہونے تک
منزلیں گم ہوئیں رفتہ رفتہ
راستہ راہ نما ہونے تک
پوچھ مت دل پہ جو بیتی اپنے
درد ہونے سے سوا ہونے تک
خار زاروں پہ بچھا دیں پلکیں
ایک بندے سے خدا ہونے تک
قید میں جو بھی یقیں پر بیتی
تھا گماں باقی رہا ہونے تک
جال اس کا بھی بکھر جائے گا
ہے یہ سناٹا صدا ہونے تک
