jiia
1
ہاتھ پہ ہاتھ دَھرے بیٹھے ہیں، فرصت کتنی ہے
پھر بھی تیرے دیوانوں کی شہرت کتنی ہے!
سُورج گھر سے نکل چکا تھا کرنیں تیز کیے
شبنم گُل سے پوچھ رہی تھی ’’مہلت کتنی ہے!،،
بے مقصد سب لوگ مُسلسل بولتے رہتے ہیں
شہر میں دیکھو سناٹے کی دہشت کتنی ہے!
لفظ تو سب کے اِک جیسے ہیں، کیسے بات کھلے؟
دُنیا داری کتنی ہے اور چاہت کتنی ہے!
سپنے بیچنے آ تو گئے ہو، لیکن دیکھ تو لو
دُنیا کے بازار میں ان کی قیمت کتنی ہے!
دیکھ غزالِ رم خوردہ کی پھیلی آنکھوں میں
ہم کیسے بتلائیں دل میں وحشت کتنی ہے!
ایک ادھورا وعدہ اُس کا، ایک شکستہ دل،
لُٹ بھی گئی تو شہرِ وفا کی دولت کتنی ہے!
میں ساحل ہوں امجدؔ اور وہ دریا جیسا ہے
کتنی دُوری ہے دونوں میں، قربت کتنی ہے!
امجد اسلام امجد
https://fbcdn-sphotos-b-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash3/s480x480/562473_357583231008776_749494827_n.jpg
Re: پھر بھی تیرے دیوانوں کی شہرت کتنی ہے!
**
میں ساحل ہوں امجدؔ اور وہ دریا جیسا ہے
کتنی دُوری ہے دونوں میں، قربت کتنی ہے!
chalo ek doosre per sir patakhne ke kaam aae ga :p
**
jiia
3
Re: پھر بھی تیرے دیوانوں کی شہرت کتنی ہے!

KHALIS MIYAN BIWI KA RISHTA HO GAYA
Re: پھر بھی تیرے دیوانوں کی شہرت کتنی ہے!
Miyan bivi na hue, dushman ki fojen hogain
jiia
5
Re: پھر بھی تیرے دیوانوں کی شہرت کتنی ہے!
to miya biwi DUSHMAN KI FOJ HI HOTE HEIN
Re: پھر بھی تیرے دیوانوں کی شہرت کتنی ہے!
ab darao to nahin :sid:
jiia
7
Re: پھر بھی تیرے دیوانوں کی شہرت کتنی ہے!

derne se bach thori paen gy
پھر بھی تیرے دیوانوں کی شہرت کتنی ہے!
nice 1
jiia
9
Re: پھر بھی تیرے دیوانوں کی شہرت کتنی ہے!
nice 1
welcome to poetry