خباثت اُس کے چہرے سے
کبھی ظاہر نہیں ہوتی
کھرچ کر پھینک دی کس نے
ہر اک جذبے سے ہے عاری
ہمیشہ مسکراہٹ ایک جیسی
سبھی کو اُس نے ‘‘میک اپ’’ کی طرح
یکسر اُتارا ہے
‘‘تجارت’’ مشغلہ اُس کا
‘‘مروّت’’ اُس کا ایک اوزار
‘‘محبت’’ کو برتتا ہے ‘‘کرنسی’’ جان کر اکثر
بہت ہی گھاک ہے وہ اپنے پیشے میں
نظر آتا ہے کیوں مجھ کو
چوکھٹے میں بولتی تصویر
(محترم رؤف خلش کی کتاب شاخسانہ سے انتخاب)