طرحی غزل
سامنا ہے مجھے جلووں کی فراوانی کا
میری آنکھیں ہیں کہ ہے آئنہ حیرانی کا
وہ سرِ بزم مری سمت نہیں دیکھتا ہے
کوئی اندازہ کرے میری پریشانی کا
جس کے دامن میں نہیں ہے کوئی غم کا سکہ
طعنہ دیتا ہے مجھے بے سر و سامانی کا
مشکلیں اس لیے بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں
بوجھ کاندھوں پہ اٹھایا ہے تن آسانی کا
توجو اوڑھے ہوئے ہے لطف وعنایت کی نقاب
حال دنیا پہ کھلے کیوں ترے زندانی کا
حسن ظالم ہے مگر عشق یہی چاہے گا
وقت اس پر نہ کبھی آئے پشیمانی کا
ٹوٹنے دی نہ کبھی میں نے لڑی اشکوں کی
کام سونپا ہی گیا تھا گہر افشانی کا
غم مری زیست میں اس طرح چلے آتے ہیں
دائرہ وار ہے جس طرح سفر پانی کا
وہ مرے شعر پہ کیوں داد بھلا دیویں گے
یہ مرا شعر ہے، شہکار نہیں مانی کا
سب کے ذہنوں پہ مسلط ہیں فراز و پروین
معتقد کوئی نہیں اب جگر و فانی کا
ان کی محفل میں وہی گنگ کھڑے ہیں کیسے
زعم تھا جن کو بہت اپنی سخن دانی کا
میں فصیح اس لیے رہتا ہوں یہاں زیرِ عتاب
ہنر آتا نہیں حاکم کی ثنا خوانی کا
**
شاہین فصیح ربانی
**