مجھے خود سے مکرنا پڑ رہا ہے
اذيت سے گزرنا پڑ رہا ہے
مجھے تو شوق تھا جينے کا ليکن
تيري فرقت ميں مرنا پڑ رہا ہے
نہيں تھا جو کبھي مجھ کو گوارا
وہي اب مجھ کو کرنا پڑ رہا ہے
ناجانے کون ہے وہ جس کي خاطر
اجڑ کے بھي سنورنا پڑ رہا ہے
سمجھنے کو کنارے کي حقيقت
سمندر ميں اترنا پڑ رہا ہے
مري اِس ميں رضا شامل نہيں ہے
مجھے جبراًَ سدھرنا پڑ رہا ہے