http://1.bp.blogspot.com/-bPCs5yiPU4Q/ULReBIXH3_I/AAAAAAAACv8/Fy6qWvscKKc/s400/alone-sad-man.jpg
نجانے کون خلا کے یہ استعارے ھیں
تمہارے ہجر کی گلیوں میں گونجتے ھوئے دن
نہ آپ چلتے ، نہ دیتے ہیں راستہ ہم کو
تھکی تھکی سی یہ شامیں یہ اونگھتے ھوئے دن
پھر آج کیسے کٹے گی پہاڑ جیسی رات
گزر گیا ھے یہی بات سوچتے ھوئے دن
تمام عمر مرے ساتھ ساتھ چلتے رھے
تمہی کو ڈھونڈتے تم کو پکارتے ھوئے دن
ہر ایک رات جو تعمیر پھر سے ھوتی ھے
کٹے گا پھر وھی دیوار چاٹتے ھوئے دن
مرے قریب سے گزرے ھیں بار ھا امجد
کسی کے وصل کے وعدے کو دیکھتے ھوئے دن