عجب حالات تھے ميرے عجب دن رات تھے ميرے
مگر ميں مطمئن تھا اس لئے تم ساتھ تھے ميرے
مرے زر کے طلبگاروں کي نظريں ايسے اٹھتي تھيں
کہ لاکھوں انگلياں تھيں اور ہزاروں ہاتھ تھے ميرے
ميں اک پتھر کا گرد آلود بت تھا ان کے مندر ميں
نہ دل تھا ميرے سينے ميں نہ کچھ جذبات تھے ميرے
کسي سے اور کيا تائيد کي اميد ميں رکھتا
وہي خاموش تھے جو محرم حالات تھے ميرے
ميں جن شعلوں ميں جلتا تھا تم بھي نہيں سمجھے
مرا دل مختلف تھا ، مختلف صدمات تھے ميرے
مجھے مجرم بنا کر رکھ ديا جھوٹے گواہوں نے
سبھي رد ہوگئے جتنے بھي الزامات تھے ميرے
تصور بن گيا تصوير آخر ايک دن ساجد
اسي کا خوف تھا مجھ کو يہي خدشات تھے ميرے