کھلي جو آنکھ تو وہ تھا نہ وہ زمانہ تھا
دہکتي آگ تھي تنہائي تھي فسانہ تھا
غموں نے بانٹ ليا مجھے يوں آپس ميں
کہ جيسے ميں کوئي لُوٹا ہوا خزانہ تھا
يہ کيا کہ چند ہي قدموں پہ تھک کے بيٹھ گئے
تمہيں تو ساتھ ميرا دورتک نبھانا تھا
مجھے جو ميرے لہو ميں ڈّبو کے گذرا ہے
وہ کوئي غير نہيں يار اک پرانا تھا
خود اپنے ہاتھ سے ‘شہزاد’ اُس کو کاٹ ديا
کہ جس درخت کي ٹہني پہ آشيانہ تھا