اب ایسی محبت کیا کرنی
جو نیند چرا لے آنکھوں سے
جو خواب دکھا کر پھولوں کے
تعبیر میں کانٹے دے جائے
جو غم کی کالی راتوں سے
ہر آس کا جگنو لے جائے
جو خواب سجاتی آنکھوں کو
آنسو ہی آنسو دے جائے
جومشکل کر دے جینے کو
جو مرنے کو آسان کرے
جو دل کو پیار کا ساگر بنا
وہاں یادوں کو مہمان کرے
کہنے کو محبت ہے لیکن
اب ایسی محبت کون کرے