گّلِ گفتگو خوابوں سے خیال چھوڑ آئے ہیں
نقشِ آفتاب کہکشاں اور تارےچھوڑ آئے ہیں
شناسئا ہا تھ چھڑا کر تھماتے ہیں بیساکھیاں
خلوصِ رفقاں کے وہ سہارے چھوڑ آئے ہیں
جن یزداں نےکی عصمت دری بےبسوں کی
ان کےہاتھوّں پہ دہکتے انگارےچھوڑ آئےہیں
ضبطِ چشمم نہیں کہ دیکھیں اب بہارآنگن میں
گھرمیں گلابوں سےلپٹےشرارےچھوڑآئےہیں
غمِ زندگی کا افسانہ علماںّ جو نہ سمجھا سکے
بہتے پانی کے وہ کچھ اشارے چھوڑ آئے ہیں
کبھی دیکھ مسیحاء کو اعضاء کا سودا کرتے
حیوانیت کے وہ بدتر نظارے چھوڑ آئے ہیں
اڑتےپنچھیوں کوقید نہ رکھنےکی آگاہی سمجھ
ہم خرید کر ہوا میں کچھ غبارے چھوڑ آئے ہیں
ہرشام جلےچراغِ محبت جنکی دیواروں پہ’شاہ جی’’
وہ شہر وہ گلیاں گھر چوبارے چھوڑ آئے ہیں
Re: غزل { خواب چھوڑآئے ہیں ]
yeh sab kuch chorny ki waja
Re: غزل { خواب چھوڑآئے ہیں ]
*kutch achi wjoohat thee kutch buri....kon c btaoon *
Re: غزل { خواب چھوڑآئے ہیں ]
**شناسئا ہا تھ چھڑا کر تھماتے ہیں بیساکھیاں
**خلوصِ رفقاں کے وہ سہارے چھوڑ آئے ہیں
ZABARDAST
****
Re: غزل { خواب چھوڑآئے ہیں ]
Bohat Umdah..........SHAH G
Re: غزل { خواب چھوڑآئے ہیں ]
zra nwazi ka shukriya
Re: غزل { خواب چھوڑآئے ہیں ]
aap ki muhabat hey..
Re: غزل { خواب چھوڑآئے ہیں ]
boht hi aala ![]()
Re: غزل { خواب چھوڑآئے ہیں ]
bohat shukriya mehrban