حشر برپا شام سے میرے غریب خانے میں ہے
کوئی شمع بجھ رہی کہیں نہ کہیں زمانےمیں ہے
محبت میں بھسم ہونے کا مرتبہ کاش شہادت ہوتا
قسمِ وفا کو نبھانےکا عزم بس اکِ پروانےمیں ہے
سنگ برسیں گےعشق میں اّس کےبّت خانوں سے
تیری عافیت بس اس کافر کو اب بھلانے میں ہے
مور پنکھ نہ کوئی گلاب ملا بہت تلاشا کتابوں میں
کیا احتیاط اسکی گھر سے آکر چلےجانے میں ہے
میرے محسنات تک اسکی رسائی ممکن نہیں شاید
جوشخص مصروف وفاوَں کا قصہ سنانے میں ہے
بکتےہیں ابنِ یعقوب آج بھی صدیوں کی روایت ہے
فرق یہ ابن آدم آزاد اب اپنے دام لگانے میں ہے
تلواروں سےسر توکٹتےہیں روح نہیں مرتی’‘شاہ جی’’
دیکھتے ہیں کتنی شِدت اب تیرے قلم چلانے میں ہے
Re: حشر برپا شام سے
Bohat Khoob......
تلواروں سےسر توکٹتےہیں روح نہیں مرتی''شاہ جی''
دیکھتے ہیں کتنی شِدت اب تیرے قلم چلانے میں ہے
Re: حشر برپا شام سے
aap ki hosla afzaie ka shukriya...