***غزل
موسم بیار کا پھر نہ آیا تو وہ بہت یاد آیا
کبھی کوئ لوٹ کے نہ آَیا تو وہ بہت یاد آیا
وہ گیا توھماری آنکھوں کی بینائ بھی نہ رھی
سایوں سے بچھڑا کوئ سایہ تو وہ بہت یاد آیا
کٹھن راہ میں کچھ ھمدرد ملے درد بانٹنے کے لیے
وہ حادثہ کسی سے جو کہہ نہ پایا تو وہ بہہت یاد آیا
دریا دل ھوتے تو درگزر کرتے تیری اس خطا کو
وہ لمحہ ھاتھوں سے جو گنوایا تو وہ بہہت یاد آیا
چھن چکی ہے ا ب ھم سے چہہروں کی پہچان بھی
گھاّو کسی نے دل پہ اک اور لگایا تو وہ بہہت ہاد آہا
ہزارہاں جتن کیے رفقاں نے ہمیں باندھ رکھنے کو
ہر کسی کو اس نے جو ٹھکرایا تو وہ بہہت یاد آیا
صدیاں بھی ناکافی ہیں ایک سچ کو مٹانے کے لیے
کسی بے عیب کو سولی جو چڑھایا تو وہ بہہت یاد آیا
ظالم زمانے میں کچھ پہچان بھی درکار ہے’‘شاہ جی’’
آخری پنچھی بھی آشیاں میں لوٹ آیا تو وہ بہہت یاد آیا***