ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں تہمتیں، بدنام&#1740

ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں
تہمتیں، بدنامیاں، رسوائیاں

زندگی شاید اسی کانام ہے
دُوریاں ، مجبوریاں ، تنہائیاں

کیا زمانے مین یونہی کٹتی ہے رات
کروٹیں ، بےتابیاں ، انگڑائیاں

کیا یہی ہوتی ہے شامِ انتظار
آہٹیں، گبھراہٹیں ، پرچھائیاں

ایک پیکر میں سمٹ کر رہ گئیں
خوبیاں، زیبائیاں، رعنائیاں

زخم دل کے پھر ہرے کرنے لگیں
بدلیاں، برکھا رُتیں ، پُروائیاں

“کیف” پیدا کر سمندر کی طرح
وُسعتیں ، خاموشیاں ، گہرائیاں.