ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں
تہمتیں، بدنامیاں، رسوائیاں
زندگی شاید اسی کانام ہے
دُوریاں ، مجبوریاں ، تنہائیاں
کیا زمانے مین یونہی کٹتی ہے رات
کروٹیں ، بےتابیاں ، انگڑائیاں
کیا یہی ہوتی ہے شامِ انتظار
آہٹیں، گبھراہٹیں ، پرچھائیاں
ایک پیکر میں سمٹ کر رہ گئیں
خوبیاں، زیبائیاں، رعنائیاں
زخم دل کے پھر ہرے کرنے لگیں
بدلیاں، برکھا رُتیں ، پُروائیاں
“کیف” پیدا کر سمندر کی طرح
وُسعتیں ، خاموشیاں ، گہرائیاں.