عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

آج تو بے سبب اداس ہے جی
عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

جلتا پھرتا ہوں میں دوپہروں میں
جانے کیا چیز کھو گئی میری

وہیں پھرتا ہوں میں بھی خاک بسر
اس بھرے شہر میں ہے ایک گلی

چھپتا پھرتا ہے عشق دنیا سے
پھیلتی جارہی ہے رسوائی

ہم نشیں کیا کہوں کہ وہ کیا ہے
چھوڑ یہ بات نیند اڑنے لگی

آج تووہ بھی کچھ خموش سا تھا
میں نے بھی اُس سے کوئی بات نہ کی

ایک دم اُس کے ہونٹ چوم لیے
یہ مجھے بیٹھے بیٹھے کیا سوجھی

اک دم اُس کا ہاتھ چھوڑ دیا
جانے کیا بات درمیاں آئی

تو جو اتنا اداس ہے ناصر
تجھے کیا ہو گیا بتا تو سہی

NASIR KAZMI

Re: عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

:k:
wah bohot khoob.. :@:

aapki selection aaj kamaal ki hai :phati:

Re: عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

تو جو اتنا اداس ہے ناصر
تجھے کیا ہو گیا بتا تو سہی

Kuch nahi, bus 5 rupe ka note band hogaya

Re: عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

Very nice

Re: عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

Bohat Khoob Jiia..:k: