~~**وہ تری طرح کوئی تھی**~~

http://4.bp.blogspot.com/-ts5H_UeBYxU/UNp6y7dFMAI/AAAAAAAACzE/ejrTK8iQ9fA/s400/red+bridal+gown.jpg
یونہی دوش پر سنبھالے
گھنی زلف کے دو شالے
وہی سانولی سی رنگت
وہی نین نیند والے

وہی من پسند قامت
وہی خوشنما سراپا
جو بدن میں نیم خوابی
تو لہو میں رتجگا سا

کبھی پیاس کا سمندر
کبھی بھی آس کا جزیرہ
وہی مہربان لہجہ
وہی میزباں وطیرہ

تجھے شاعری سے رغبت
اُسے شعر یاد میری
وہی اس کے بھی قرینے
جو ہیں خاص وصف تیرے

کسی اور ہی سفر میں
سرِ راہ مل گئی تھی
تجھے اور کیا بتاؤں
وہ تیری طرح کوئی تھی

کسی شہرِ بےاماں میں
میں وطن بدر اکیلا
کبھی موت کا سفر تھا
کبھی زندگی سے کھیلا

مرا جسم جل رہا تھا
وہ گھٹا کا سائباں تھی
میں رفاقتوں کا مارا
وہ مری مزاج داں تھی

یہاں گمرہی کے امکاں
اسے رنگ و بو کا لپکا
یہاں لغزشوں کے ساماں
اسے خواہشوں نے تھپکا

یہاں دام تھے ہزاروں
یہاں ہر طرف قفس تھے
کہیں زر زمیں کا دلدل
کہیں جال تھے ہوس کے

وہ فضا کی فاختہ تھی
وہ ہوا کی راج پتری
کسی گھاٹ کو نہ دیکھا
کسی جھیل پر نہ اتری

پھر اک ایسی شام آئی
کہ وہ شام آخری تھی
کوئی زلزلہ سا آیا
کوئی برق سی گری تھی

عجب آندھیاں چلی تھیں
کہ بکھر گئے دل و جاں
نہ کہیں گلِ وفا تھا
نہ چراغِ عہد و پیماں

وہ جہاز اتر گیا تھا
یہ جہاز اتر رہا ہے
تری آنکھ میں ہے آنسو
میرا دل بکھر رہا ہے

تو جہاں مجھے ملی ہے
وہ یہیں جدا ہوئی تھی
تجھے اور کیا بتاؤں
وہ تری طرح کوئی تھی
[RIGHT](احمد فراز)
(خوابِ گل پریشاں ہے)[/RIGHT]

Re: وہ تری طرح کوئی تھی

:lajawab: