غزل - جب پیرایہء اظہار بدل جاتا ہے


جب بھی پیرایہء اظہار بدل جاتا ہے
ساتھ مفہوم بھی اے یار بدل جاتا ہے

جانے سیکھا ہے یہ انداز کہاں سے اس نے
ایک لمحے میں کئی بار بدل جاتا ہے

اب پذیرائی کہیں بھی نہیں ہوتی سچ کی
اب تو منصور سرِ دار بدل جاتا ہے

ایسا ہوتا ہے کہ لگ جاتی ہے ٹھوکر مجھ کو
اور پھر وقت بھی رفتار بدل جاتا ہے

یہ ضروری تو نہیں روز نئی خبریں ہوں
“صرف تاریخ سے اخبار بدل جاتا ہے”

عرض ہے آپ بھی اب مجھ پہ عنایت کیجے
توبہ کرنے سے گنہگار بدل جاتا ہے

چند لمحوں کو ہوائیں کبھی برہم ہو جائیں
منظرِ کوچہ و بازار بدل جاتا ہے

رازداں جان کے کہ دیتا ہوں باتیں جس سے
رخ وہی جانبِ اغیار بدل جاتا ہے

آپ کہتے ہیں تو یہ آپ کی ہے سوچ مگر
ہم نہ مانیں گے کبھی پیار بدل جاتا ہے

مجھ سےرخ پھیر کےچل دیتا ہےسورج توفصیح
ساتھ ہی سایہء دیوار بدل جاتا ہے


Re: غزل - جب پیرایہء اظہار بدل جاتا ہے

Hummm

Re: غزل - جب پیرایہء اظہار بدل جاتا ہے

KIA KAMAL LIKHA HAY. KYAI BAR WAH WAH WAH.............

Re: غزل - جب پیرایہء اظہار بدل جاتا ہے

:lajawab:

Re: غزل - جب پیرایہء اظہار بدل جاتا ہے

Jane seekha hai yeh andaz kahan se uss ne
Aik lamhae mein kaii baar badal jata hai

Bohut khoob

Re: غزل - جب پیرایہء اظہار بدل جاتا ہے


آپ سبھی محترم احباب کا بہت بہت شکریہ۔

سدا شاداں و فرحان رہیے۔

Re: غزل - جب پیرایہء اظہار بدل جاتا ہے

Another good one from you Faseeh Sahab.

Re: غزل - جب پیرایہء اظہار بدل جاتا ہے

Aap Ki Zameen mein Arz hai:

Kaarwan Mera Pohunchta Nahin Manzil Pe

Jaane Kiyoon Raasta Har Baar Badal Jaata Hai

Re: غزل - جب پیرایہء اظہار بدل جاتا ہے

Thanks a lot Diwana Sahib

Re: غزل - جب پیرایہء اظہار بدل جاتا ہے


اچھا شعر ہے دیوانہ صاحب، داد قبول کیجیے۔

کارواں میرا پہنچتا ہی نہیں منزل پر

جانے کیوں راستہ ہر بار بدل جاتا ہے