مچل مچل کے میں کہتا ہوں بیٹھئے تو سہی

حقیقت غمِ الفت چھپا رہا ہوں میں

شکستہ دل ہوں مگر مسکرا رہا ہوں میں

کمال حوصلہ دل دکھا رہا ہوں میں

کسی سے رسم محبت بڑھا رہا ہوں میں

بدل دیا ہے محبت نے ان کا طرز عمل

اب ان میں شان تکلف سی پا رہا ہوں میں

مچل مچل کے میں کہتا ہوں بیٹھئے تو سہی

سنبھل سنبھل کے وہ کہتے ہیں جا رہا ہوں میں

سنی ہوئی سی بس اک دھن ضرور ہے

یہ خود خبر نہیں کیا گنگنا رہا ہوں

Re: مچل مچل کے میں کہتا ہوں بیٹھئے تو سہی

Nice one