ہم تو دل کی بات کہیں گے چاہے وقت کے آہن گر

کیوں خوابوں کے محل بنائیں کیوں سپنے تعمیر کریں

جو کچھ ہم پر بیت رہی ہے کیوں نہ وہی تحریر کریں

ہم تو دل کی بات کہیں گے چاہے وقت کے آہن گر

سوچوں پر تعزیر لگائیں جذبوں کو زنجیر کریں

دل کے اندر رسنے والے آنسو کس نے دیکھے ہیں

جو نظروں سے اوجھل ہے اسے دکھ کی کیا تشہیر کریں

بستی کی ساری قندیلیں صبح تلک روشن رکھیں

تیرہ شبی سے لڑنے والے لوگوں کی توقیر کریں

حال اُس نے پوچھا لیکن یہ سوچ کے ہم خاموش رہے

خود تو صدموں سے بوجھل ہیں اُس کو کیوں دلگیر کریں

جس کے سارے رنگ مری آنکھوں کو ازبر ہیں عامر

آو دل کی دیواروں پر وہ صورت تصویر کریں

Re: ہم تو دل کی بات کہیں گے چاہے وقت کے آہن گر

array lallay yahan to sabhi dil jallay hain :p

Re: ہم تو دل کی بات کہیں گے چاہے وقت کے آہن گر

Dukh ki kia tash’heer karen :k:

Re: ہم تو دل کی بات کہیں گے چاہے وقت کے آہن گر

wao zabardast :lajawab: