[RIGHT][Urdu]تم جو بے چارگی کی حدوں سے پرے
بے ضمیری کے قدموں کوچُھونے لگے
جب لٹیرے دریچوں تلک آگئے
تم نے بھائیوں کی گردن کو آگے کیا
اپنے’ بُوٹوں‘ پہ گرد آ نہ جائے کہیں
آنچلوں کو دوپٹّوں کو صافی کیا!
تم یہ کہتے ہو’چوائس‘ بچی ہی نہ تھی
میں یہ کہتا ہوں ’چوائس‘ کبھی بھی نہ تھی!
(بیچ ایمان اور کفر کے، کوئی’چوائس‘ بھی ہے؟)
اے بھلے مانسو!
رک کے سوچو ذرا!
بابِ تاریخ میں ہم نے اکثر پڑھا
قوم کی زندگی میں کسی موڑ پر
ایسے لمحے کئی آچکے بارہا
جب کہیں کوئی ’چوائس‘ بھی بچتی نہیں!
جیسے گھر میں تمہارے جو ڈاکو گھسیں
اور تم کو سرِباب ’آرڈر ‘ یہ دیں
’’اک ذرا ہٹ رہو
(ساتھ بلکہ ، ہمارا ہی دو!)
ہم نے اِس گھر کو تاراج کرنا ہے اب
آنچلوں کو بھی ہاں ___ نوچ ڈالیں گے ہم
جس کو چاہیں گے اُس کو اُٹھالیں گے ہم‘‘
نوکِ خنجر پہ ہی پھر وہ تم سے کہیں
ایک لمحہ بچا ہے کہ ’چوائس ‘کرو
’’تم ___ یاگھر یہ تمہارا ___ ذرا سوچ لو!‘‘
پھر بتاؤ مجھے ___ اے کہ دانشورو!
اپنے بھائیوں کی گردن
بہن کی ردا
اپنے قاتل کو تم پیش کردوگے کیا؟
ذلتوں کے عوض ___ اپنی جاں کی اماں
اتنے گھاٹے کی ’چوائس‘ بھی کرلوگے کیا؟
[/Urdu][/RIGHT]