یاد ہے اب تک مجھے وہ زندگی کی سرد شام

[RIGHT]
یاد ہے اب تک مجھے وہ زندگی کی سرد شام
ادھ جلے پیڑوں کے پیچھے چاند گہنایا ہوا
سرد برفیلی ہوا
پیڑ، جیسے تھر تھراتے جسم
اور ہر جھونکے پہ اکھڑی اکھڑی سانسوں کا گماں
ایک قیامت کا سماں
اور جیسے میں بھی اک آوارہ جھونکے کی طرح
اس فضا پر چھا گیا۔۔!

اور پھر اک بار وہ سرما کا سورج
تیز کرنوں کو جلو میں لے کر نکلا شرق سے
لمحہ لمحہ سرخ لاوے کی طرح
پھیلتا، بڑھتا ہوا!!
کونپلیں پھوٹیں تو دلہن کی طرح سجنے لگا ہر شاخسار
ہر روش پر اک بہار
کاروان شوق اک منزل پر آ کر رک گیا!
چپکے چپکے پھر وہی برفیلی راتوں کے قدم
وادیوں نے کوہساروں نے سنی ان کی دھمک
یورش دورخزاں کو باد و باراں کی کمک
اور پھر آنکھوں نے دیکھا
پتہ پتہ ٹوٹ کر بکھرا ہوا ہے خاک پر
پھول مرجھانے لگے
ننگی شاخوں نے فضا کو اور ویراں کر دیا
سرد راتیں اور اس کے بعد چمکیلی سحر
موسم گل اور پھر فصل خزاں
زندگی کے راز سر بستہ کی ہیں مہلک خبر!!

[/RIGHT]

Re: یاد ہے اب تک مجھے وہ زندگی کی سرد شام

Zindagi mosamon ki sazish hai :k: