دل پہ اسے بھی عذابوں کو اترتے دیکھا

**
دل پہ اسے بھی عذابوں کو اترتے دیکھا
ہم نے چپ چاپ اسے خود سے بچھڑتے دیکھا

اس کو سوچا تو ہر اک سوچ میں خوشبو اتری
اس کو لکھا تو ہر اک لفظ مہکتے دیکھا

یاد آ جائے تو قابو نہیں رہتا دل پر
ورنہ دنیا نے بھی ہم کو ہے تڑپتے دیکھا

اس کی صورت کو فقط آنکھ نہیں ترسی ہے
راستوں کو بھی اس کی یاد میں روتے دیکھا

ہم محبت کے لئے آج بھی دیوانے ہیں
یہ الگ بات ہے اس نے نہیں مڑ کر دیکھا**

Re: دل پہ اسے بھی عذابوں کو اترتے دیکھا

Very nice sharing babri :k:

I liked the last shair more