خواب پلکوں میں جگانے کی بھی مہلت نہیں دی
نیند سے آنکھ ملانے کی بھی مہلت نہیں دی
بعد مدت وہ ملا بھی تو گھڑی بھر کے لئے
حالِ دل اُس نے سنانے کی بھی مہلت نہیں دی
سر تھا سجدے میں ابھی، اُس نے بدل ڈالا مقام
سر کو چوکھٹ سے اٹھانے کی بھی مہلت نہیں دی
اوس جم جم سی گئی، آنکھ میں حیرت کی طرح
اُس نے پلکوں سے گرانے کی بھی مہلت نہیں دی
جانے کیا ہم نے سُنا، سچ کا بھرم ٹوٹ گیا
دل نے پھر جھوٹے بہانے کی بھی مہلت نہیں دی
ساتھ رہتا تو تعلق کے دریچے کُھلتے
وقت نے ساتھ نبھانے کی بھی مہلت نہیں دی