شاہین فصیح ربانی**
غزل
**
رہا جو مرشدِ کامل سے دُور
رہا وہ عمر بھر منزل سے دُور
تری نظروں، تری محفل سے دُور
ترا عاشق ہے تیرے دل سے دُور
یہ کس منزل پہ لے آئی ہے زیست
رہا جاتا نہیں قاتل سے دُور
ہوا نے پھاڑ ڈالے بادبان
سفینہ ہے ابھی ساحل سے دُور
اڑائی راستوں نے ایسی دھول
مسافر رہ گیا منزل سے دُور
مرا نقصان ہی ہو گا دو چند
حسابِ دوست ہے حاصل سے دُور
رہِ حق میں ہوں چاہے دکھ ہزار
خدا رکھّے مجھے باطل سے دُور
اسے بھرنا تو ہے بچوں کا پیٹ
رہے مزدور کیسے مِل سے دُور
دعا میرے لبوں پر ہے فصیحؔ
خدا رکھّے اسے مشکل سے دُور
Re: غزل - رہا جو مرشدِ کامل سے دور
Boht umda 
Re: غزل - رہا جو مرشدِ کامل سے دور
:k:
رہِ حق میں ہوں چاہے دکھ ہزار
خدا رکھّے مجھے باطل سے دُور
Re: غزل - رہا جو مرشدِ کامل سے دور
nice 
Re: غزل - رہا جو مرشدِ کامل سے دور
آپ تینوں محترم احباب کا بہت شکریہ۔
سدا شاداں و فرحاں رہیے۔
KKF
6
Re: غزل - رہا جو مرشدِ کامل سے دور
FaseeH Bhai,
ummeed hai k mizaaj-e-giraamii ab_Kahir hoNge! 
aapkii Ghazal nazar navaaz huii aur paRh kar bahot lutf andoz bhii huaa…aapkii Ghazal Hasb-e-dastoor bahot hii 'aala hai…ek ek she’r murass’a hai…mujhe yeh ash’aar nisbatan ziyaada bhaaye:
رہا جو مرشدِ کامل سے دُور
رہا وہ عمر بھر منزل سے دُور
ہوا نے پھاڑ ڈالے بادبان
سفینہ ہے ابھی ساحل سے دُور
مرا نقصان ہی ہو گا دو چند
حسابِ دوست ہے حاصل سے دُور
maqt’a ba_soorat-e-du’aa bahot nafees hai…aameen
دعا میرے لبوں پر ہے فصیحؔ
خدا رکھّے اسے مشکل سے دُور
diwana
7
Re: غزل - رہا جو مرشدِ کامل سے دور
Waah!
Bohat Khoob!
jiia
8
Re: غزل - رہا جو مرشدِ کامل سے دور

zabardast
Re: غزل - رہا جو مرشدِ کامل سے دور
محترم خلیل خان صاحب
وعلیکم السلام
آپ کی یہ گرانقدر رائے میری ہمت افزائی کا باعث ہے۔
اس کے لیے میں تہِ دل سے آپ کا شکرگزار ہوں۔
ہمیشہ خوش و خرم رہیے۔
Re: غزل - رہا جو مرشدِ کامل سے دور
آپ کا بہت شکریہ، بہت شاد رہیے ہر پل
Re: غزل - رہا جو مرشدِ کامل سے دور
آپ کا بہت ممنون ہوں۔ سدا شاد آباد رہیے۔
Re: غزل - رہا جو مرشدِ کامل سے دور
*Amal bhai
meri GhazaleN aap ki raay ki munt^zir heiN....!
*