ابھی تاریخ نامی ایک جادو گر کو آنا ہے

مجھے وہ کنج تنہائی سے آخر کب نکالے گا

اکیلے پن کا یہ احساس مجھ کو مار ڈالے گا

کس کو کیا پڑی ہے میری خاطر خود کو زحمت دے

پریشان ہیں کبھی کیسے کوئی مجھ کو سنبھالے گا

ابھی تاریخ نامی ایک جادو گر کو آنا ہے

جو زندہ شہر اور اجسام کو پتھر میں ڈھالے گا

بس اگلے موڑ پر منزل تری آنے ہی والی ہے

مرے اے ہم سفر! تو کتنا میرا دکھ بٹالے گا

شریک رنج کیا کرنا اسے تکلیف کیا دینی

کہ جتنی دیر بیٹھے گا وہی باتیں نکالے گا

رہا کردے قفس کی قید سے گھائل پرندے کو

کسی کے د ردکو اس دل میں کتنے سال پالے گا

Re: ابھی تاریخ نامی ایک جادو گر کو آنا ہے

Nice.. Kabhi aap hamari history forum ki jadunagri bhi tashreef laya karen