کبھی کسی شجر کی اوٹ میں‘کبھی کھنڈر میں ہے
ہمارے ساتھ ساتھ چاند آج پھر سفر میں ہے
یہ سبز تیرگی کی بڑھتی ‘پھیلتی فصیل سی
کسی اکیلے مور کی پکار کے بھنور میں ہے
یہ چاند نے جو اوڑھ لیں ردائیں برگ سبز کی
ہوا کے دوش پر کوئی کہانی مشت پر میں ہے
کسی درخت پر اکیلے آشیاں کو دیکھ کر
اُداسی یاد آگئی جو اپنے سونے گھر میں ہے
نڈھال‘ محو خواب سنگ وخشت میں پناہ گزیں
کئی رتوں کا قافلہ شکستہ بام و در میں ہے
کہاں کی منزل وفا کہاں کی راحت فضا
ترا مسافر طلب ابھی تو رہگذر میں ہے
Re: کبھی کسی شجر کی اوٹ میں‘کبھی کھنڈر میں ہے
Kisi darkhat per akele aashiyan ko dekh kar
Udasi yaad aa gai apne ghar ki
:k:
jasos
July 6, 2012, 7:55pm
3
Re: کبھی کسی شجر کی اوٹ میں‘کبھی کھنڈر میں ہے
simply sooper! title of the poetry forced me to come and read whole poetry and its simply amazing and have been added to my diary!
can u tell the poet name ?
Re: کبھی کسی شجر کی اوٹ میں‘کبھی کھنڈر میں ہے
thanx 4 likeing .....poetz name iz Aitbar Sajid
jasos
July 7, 2012, 7:19pm
5
Re: کبھی کسی شجر کی اوٹ میں‘کبھی کھنڈر میں ہے
thanks Fari aitbaar sajid poetry is just amazing!