آخری جام زَہر سے بھر دے
ساقیئ مہربان یہ کر دے
ایک ہی بار کر تمام مجھے
یا مرے ہاتھ میں یہ خنجر دے
حُسن پوجوں یا شعر لکھوں میں
اے خدا! آج شاعری کر دے
کعبۂ مَن تمہارے نام لکھا
سُندری! اَب کلیدِ ’’مَن در‘‘ دے
پھر وُہی وَصل و جام کے قصے
!
اَگلی دنیا تو اِس سے بہتر دے
تُو بھی تو میرے دِل میں رہتا تھا
ساتویں عرش پر مجھے گھر دے
کعبۂ شوق! میں صنم گر ہوں
بُت اُٹھا لے بس ایک پتھر دے
یا تو طوفانِ نوح اُٹھ جائے
یا مری آنکھ میں سمندر دے
میری آہیں نہ وِرثہ بن جائیں
ظلم کو سر زَمین بنجر دے
زندگی جس طرح بھی گزرے **قیس
**
موت پروردگار حق پر دے