کلاشنکوف کے آگے


روف آگہی تھے بے کس و لاچار کیا کرتے

کلاشنکوف کے آگے مرے اشعار کیا کرتے

جہاں گولی سےحرف جسم پراعراب لگتے ہیں

وہاں منطق ، دلیلیں ، فلسفے ، افکار کیا کرتے

جنہیں اپنی پرستش سےکبھی فرصت نہیں ملتی

ہم ان کے روبرو اپنا بت پندار کیا کرتے

نصیحت کرنے والوں کو بھی خاص رکھنا ضروری تھا

جو میں اپنی سی کرتا یہ ہدایت کار کیا کرتے

دلیلیں دے رہے تھے لوگ اپنی قامت فن کی

ہمیں نے سادھ لی چپ،حجتیں بیکار کیا کرتے

مکینوں کو مکینوں کی طرح پایا نہیں ہم نے

سو ، اس بستی میں تحسین در و دیوار کیا کرتے

ہماری کشتی ءامید کا انجام ظاہر تھا

مخالف تھی ہوا ، ٹوٹے ہوئے پتوار کیا کرتے

اگر ہوتے بہادر شاہ کے عہد سخن میں ہم

یہی دو حرف لکھتے اور کاروبار کیا کرتے

Re: کلاشنکوف کے آگے

gar hote Bahadur Shah ke ahd e sukhan main hum
Yehi do harf likhte aur karobaar kia karte

Bahadur Shah to khud angrezon ke Pensioner the :(