خانہ زادِ زلف ہیں، زنجیر سے بھاگیں گے کیوں

دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا

زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا

بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور، کب تلک

ہم کہیں گے حالِ دل، اور آپ فرمائیں گے کیا

حضرتِ ناصح گر آئیں، دیدہ و دل فرشِ راہ

کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا؟

آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں

عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا

گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا یوں سہی

یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا

خانہ زادِ زلف ہیں، زنجیر سے بھاگیں گے کیوں

ہیں گرفتارِ وفا، زنداں سے گھبرائیں گے کیا

ہے اب اس معمورے میں قحطِ غمِ الفت اسد

ہم نے یہ مانا کہ دلّی میں رہیں، کھائیں گے کیا؟

مرزا غالب

Re: خانہ زادِ زلف ہیں، زنجیر سے بھاگیں گے کیوں

wah wah …

for some reason I read your post title as

Khalazaad zulfeen hain, zajeer sai bhageen keyun - LOL

:chai:

Re: خانہ زادِ زلف ہیں، زنجیر سے بھاگیں گے کیوں

@ D6C :cb:

Fari very nice sharing. The last line is so famous.. Hum ne ye mana ke dilli main rahen, kahen ge kia… Its definitely from Ghadar period.