ابھی ریل کے سفر میں ہیں بہت نہال دونوں

نہ گمان موت کا ہے ‘نہ خیال زندگی کا

سو‘ یہ حال ان دنوں ہے مرے دل کی بے کسی کا

میں شکستہ بام دور میں جسے جا کے ڈھونڈتا تھا

کوئی یاد تھی کسی کی ‘کوئی نام تھا کسی کا

میں ہواؤں سے ہراساں‘وہ گھٹن سے دل گرفتہ

میں چراغ تیرگی کا ‘وہ گلاب روشنی کا

ابھی ریل کے سفر میں ہیں بہت نہال دونوں

کہیں روگ بن نہ جائے یہی ساتھ دو گھڑی کا

کوئی شہر آرہا ہے تو یہ خوف آرہا ہے

کوئی جانے کب اتر لے کہ بھروسہ کیا کسی کا

کوئی مختلف نہیں ہے یہ دھواں ‘ یہ رائیگانی

کہ جو حال شہر کا ہے وہی اپنی شاعری کا

Re: ابھی ریل کے سفر میں ہیں بہت نہال دونوں

Amazing..

Ke jo haal hai shehr ka wohi apni shayari ka. :k:

BTW Rail ka safar hi kiyun.. Jahaz, Bus ka safar kiyun nahin?

Re: ابھی ریل کے سفر میں ہیں بہت نہال دونوں

nice one fari :k: