چمکے گا شجر پر نہ مرے گھر میں رہے گا
وہ چاند ہے اور چاند سمندر میں رہے گا
اب سانپ کے مانند مرے پیچھے پڑا ہے
شب کو یہی سایہ مرے پیکر میں رہے گا
خواہش کو خدا رزق بہم کرتا ہے دل میں
لگتا ہے یہ کیڑا اسی پتھر میں رہے گا
آتے ہیں تو سسَتا کے چلے جائیں گے پنچھی
وہ پیڑ اسی طرح اسی گھر میں رہے گا
تارے بھی تو محور سے نکل جاتے ہیں پیارے
آخر کوئی کب تک ترے چکر میں رہے گا
یہ عشق بھی رہتا نہیں لگتا مجھے تابش
سر چڑھ کے جو بولے، وہ کہاں سر میں رہے گا