چمکے گا شجر پر نہ مرے گھر میں رہے گا
وہ چاند ہے اور چاند سمندر میں رہے گا
اب سانپ کے مانند مرے پیچھے پڑا ہے
شب کو یہی سایہ مرے پیکر میں رہے گا
خواہش کو خدا رزق بہم کرتا ہے دل میں
لگتا ہے یہ کیڑا اسی پتھر میں رہے گا
آتے ہیں تو سسَتا کے چلے جائیں گے پنچھی
وہ پیڑ اسی طرح اسی گھر میں رہے گا
تارے بھی تو محور سے نکل جاتے ہیں پیارے
آخر کوئی کب تک ترے چکر میں رہے گا
یہ عشق بھی رہتا نہیں لگتا مجھے تابش
سر چڑھ کے جو بولے، وہ کہاں سر میں رہے گا
LP
2
Re: ب سانپ کے مانند مرے پیچھے پڑا ہے
fari aap spaces rakha karain between every line to avoid overlapping :)
Re: ب سانپ کے مانند مرے پیچھے پڑا ہے
Beautiful poetry fari :k:
Re: ب سانپ کے مانند مرے پیچھے پڑا ہے
تارے بھی تو محور سے نکل جاتے ہیں پیارے
آخر کوئی کب تک ترے چکر میں رہے گا
Wao very nice :k: , meray chakar kaa kia banay gaa 
jiia
5
Re: ب سانپ کے مانند مرے پیچھے پڑا ہے
very nice
lsat 2 r AWESOME 