رات کے ہاتھ میں یہ کاسہء سر کیسا ہے

عکسِ تنویر پسِ گردِ سفر کیسا ہے
دور وہ شہر سا اے شمعِ نظر کیسا ہے

اب تو شل ہوگئے اعصاب نظر ڈوب چلی
پیش رہ کیسے تھے میرے ، یہ سفر کیسا ہے

چھپتے جاتے ہیں ستارے بھی گھنی شاخوں میں
پھیلتا جاتا ہے ہر سو ، یہ شجر کیسا ہے

پیڑ میں زہر کی تاثیر کہاں سے آئی
بیج شیریں تھا مگر اس کا ثمر کیسا ہے

پاس رہ کر بھی نہیں آتی مکینوں کی صدا
سب جزیروں میں ہیں آباد ، یہ گھر کیسا ہے

کن پہ ٹوٹے گی دم صبح قیامت ساجد
رات کے ہاتھ میں یہ کاسہء سر کیسا ہے

Re: رات کے ہاتھ میں یہ کاسہء سر کیسا ہے

Paed main zehr ki taseer kahan se aai
beej sheerin tha magar uska samar kaisa hai

:clap:

Shayd beej bone wale ne apne qarze maaf karwae hon :hmmm:

Re: رات کے ہاتھ میں یہ کاسہء سر کیسا ہے

Bohat Umdah.......