عکسِ تنویر پسِ گردِ سفر کیسا ہے
دور وہ شہر سا اے شمعِ نظر کیسا ہے
اب تو شل ہوگئے اعصاب نظر ڈوب چلی
پیش رہ کیسے تھے میرے ، یہ سفر کیسا ہے
چھپتے جاتے ہیں ستارے بھی گھنی شاخوں میں
پھیلتا جاتا ہے ہر سو ، یہ شجر کیسا ہے
پیڑ میں زہر کی تاثیر کہاں سے آئی
بیج شیریں تھا مگر اس کا ثمر کیسا ہے
پاس رہ کر بھی نہیں آتی مکینوں کی صدا
سب جزیروں میں ہیں آباد ، یہ گھر کیسا ہے
کن پہ ٹوٹے گی دم صبح قیامت ساجد
رات کے ہاتھ میں یہ کاسہء سر کیسا ہے