وہ جو دعویدار ہے شہر میں کہ سب ہی کا نبض شناس ہوں
کبھی آ کے مجھ سے تو پوچھتا کہ میں کس کےغم میں اداس ہوں
یہ میری کتاب حیات ہے , اسے دل کی آنکھ سے پڑھ ذرا
میں ورق ورق تیرےسامنے , تیرے روبرو , تیرے پاس ہوں
یہ تیری امید کو کیا ہوا , کبھی تُو نےغور نہیں کیا
کسی شام تو نے کہا تو تھا تیری سانس ہوں تیری آس ہوں
یہ تیری جدائی کا غم نہیں کہ یہ سلسلے تو ہیں روز کے
تیری ذات اس کا سبب نہیں , کئی دنوں سے یونہی اداس ہوں
کسی اور کی آنکھ سے دیکھ کر , مجھے ایسے ویسےلقب نہ دے
تیرا اعتبار ہوں جانِ من , نہ گمان ہوں نہ قیاس ہوں