چاہت کی راہ گزر میں تجارت نہیں کرو
ایسا ہی شوق ہے تو محبت نہیں کرو
جب دل سے ہر قصور کو تسلیم کر لیا
لفظوں میں بار بار وضاحت نہیں کرو
سانسیں میری نہ قید کرو سود کے عِوض
مجھ سے وصول جینےکی قیمت نہیں کرو
نقشہ میرے بزرگوں نے اس کا بنایا تھا
تقسیم بام و در کی یہ جنت نہیں کرو
اک آخری پناہ تو رہنے دو میرے پاس
مجھ سے جدا یہ گھر ، یہ میری چاہت نہیں کرو
تم زر خرید منصف و عادل ہو ، اس لیے
میرے معاملے کی سماعت نہیں کرو