اس دل نے تیرے بعد محبت بھی نہیں کی
حد یہ کہ دھڑکنے کی جسارت بھی نہیں کی
تعبیر کا اعزاز ہوا ہے اسے حاصل
جس نے میرےخوابوں میں شراکت بھی نہیں کی
الفت تو بڑی بات ہے ہم سے تو سر ِشہر
لوگوں نے کبھی ڈھنگ سے نفرت بھی نہیں کی
آدابِ سفر اب وہ سکھاتے ہیں جنہوں نے
دو چار قدم طے یہ مسافت بھی نہیں کی
کیا اپنی صفائی میں بیان دیتے کہ ہم نے
نہ کردہ گناہ کی وضاحت بھی نہیں کی
خاموش تماشائی کی مانند سرِ بزم
سو زخم سہے دل پہ شکایت بھی نہیں کی
اس گھر کے سبھی لوگ مجھے چھوڑنے آئے
دہلیز تلک اس نے یہ زحمت بھی نہیں کی
اس نے بھی غلاموں کی صفوں میں ہمیں رکھا
اس دل پہ کبھی جس نے حکومت بھی نہیں کی